چنتامنی:11 / دسمبر(نامہ نگار/ایس او نیوز) چکبالاپور ضلع کے تجارتی مرکز کہلانے والے چنتامنی شہر میں پچھلے کئی دنوں سے یہ شکایتیں عام ہورہی ہیں کہ ووٹر شناختی کارڈہونے کے باجود ووٹر لسٹ میں نام غائب ہے کئی لوگوں کے نام اور پیدائش تاریخ وغیرہ درست نہ ہونے کی شکایتیں بھی عام تھیں۔لیکن گذشتہ چند دنوں سے شہر کے اکثر بی ایل اوز افسرعوام سے 500تا1000روپئے لیکر جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے دینے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں یہ جعلی شناختی کارڈ شہر کے چند سائبر سانٹرس میں تیار کئے جانے کی اطلاع مل رہی ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعے میں شہر کے منسپلٹی آفس میں ایک شخص جن کا شناختی کارڈ ہے لیکن ان کا نام پچھلے چار سالوں سے ووٹر لسٹ میں نہیں آرہا ہے اس وجہ سے اُس کارڈ کو منسپل الیکشن کمرے میں چیک کرایا گیا تو وہ شناختی کارڈ نقلی اور بوگس ثابت ہوا، اُس شخص نے اخباری نمائندوں سے بتایا کہ ایک عورت بی ایل او افسر نے اُ سے 500روپئے رشوت لیکر یہ شناختی کارڈ بنا کر دیا تھا، جب میں اس شناختی کارڈ کو اپنے راشن کارڈ میں جھوڑنے لے گیا تو وہاں نہیں ہوسکا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ جعلی شناختی کارڈ ہے۔منسپل دفتر کے پاس موجود کئی لوگوں نے آخباری نمائندوں سے بتایا کہ چنتامنی شہر کے اکثر بی ایل اوز افسران عوام سے شناختی کارڈ بناکر دینے کیلئے 500سے زیادہ روپئے مانگ رہے ہیں اگر انہیں 500روپئے نہیں دئے جاتے تو وہ شناختی کارڈ بناکر دینے میں برسوں کردیتے ہیں اگر انھیں 500روپئے رشوت دے دیا جاتا ہے تو ایک ہی دن میں شناختی کارڈ تیار ہوجاتا ہے۔
عوام نے نمائندوں کو بتایا کہ شناختی کارڈ میں نام تبدیل کرنے یا مقام تبدیل کرنے الیکشن افسر کئی مہینوں کا عرصہ لگا دیتے ہیں ہمہ وقت الیکشن افسران یہ بہانا بناتے ہیں کہ سرور میں خرابی ہے یہ سب کچھ الیکشن افسر جان بوجھ کرکررہے ہیں۔مقامی لوگوں نے اس کے متعلق مقامی تحصیلدار سے بھی شکایتیں کرچکے ہیں لیکن عوام کا کہنا ہے کہ مقامی تحصیلدار بھی اس طرف بالکل دھیان نہیں دے رہے ہیں۔منسپل آفس کے آس پاس چند ایسے دلال ہیں جنہیں صرف 500روپئے دینے پر لمحوں میں جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے دے دیتے ہیں، ان لوگوں کے مطابق یہ سلسلہ یہاں کئی مہینوں سے جاری ہے اور اس میں اکثر بی ایل اوز افسران شامل ہیں۔
شناختی کارڈ بنانے آئی چند مسلم خواتین نے بتایا کہ ہمارے شناختی کارڈ میں ہم لوگ بی ایل او ز افسر کو صحیح نام وغیرہ بھرتی کرکے دیتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے نام شناختی کارڈ میں غلط درج کیا جاتا ہے۔ ان ناموں کو درست کرنے کیلئے ایک سال سے ہم لوگ شناختی کارڈ بنانے والے دفتر کا چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ہمارے ناموں کو درست کرکے دینے کے بجائے آج کل پر ٹالا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ وارڈ کے کونسلروں اور لیڈروں کے علاوہ افسروں سے شکایت کی گئی ہے مگر وہ بھی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
ان خواتین کے مطابق اگر انتخابات قریب ہوتے تو خود لیڈرس، گھر پہنچ کر شناختی کارڈ بناکر دیتے، لیڈروں کو صرف انتخابات کے قریب ہی عوام کی یاد آتی ہے انتخابات ختم ہوجانے کے بعد لیڈرس کو محلوں کی یاد تک نہیں آتی۔